ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ممبئی: بھگوا پرچم والی گاڑیوں اور جئے شری رام کے نعرے لگانے والوں پر مُبینہ حملہ کاشاخسانہ؛ میرا روڈ پر چلا بلڈوزر

ممبئی: بھگوا پرچم والی گاڑیوں اور جئے شری رام کے نعرے لگانے والوں پر مُبینہ حملہ کاشاخسانہ؛ میرا روڈ پر چلا بلڈوزر

Tue, 23 Jan 2024 23:23:26    S.O. News Service

ممبئی 23 جنوری (ایس او نیوز) مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے میرا روڈ پر 22 جنوری کو تشددکی جو وارداتیں پیش آئی تھی اور مُبینہ طور پر ایودھیا میں رام للا کی 'پران پرتیشتھا' سے پہلے اور بعد میں بھگوا جھنڈا والی گاڑیوں اور جے شری رام کے نعرے لگانے والوں پر مُبینہ طور پر جو حملہ ہوا تھا، حکومت نے اس کا بدلہ  بلڈوزر کے ذریعے مبینہ غیر قانونی  عمارتوں کو توڑ کر لے لیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت نے اُن  مسلم علاقوں پر بلڈوزرکی کاروائی کی ہے جہاں سنگھ پریوار اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کارکنان جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے مبینہ طور پر مسلمانوں کو اُکسانے کی کوشش کی تھی، جس کے دوران کئی گاڑیوں پر توڑ پھوڑ کرنے کی وارداتیں پیش آئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ اُن ہی علاقوں سے  مبینہ طور پر  تجاوزات ہٹانے کا کام کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں میں پولیس  ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں 15 "غیر قانونی" جائیدادوں کو بلڈوز کے ذریعے منہدم کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بالخصوص مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت  ہونے کی صورت میں اتر پردیش میں بلڈوزر کی جس طرح کی  کارروائی ہورہی ہے، اُسی طرز کی  کاروائیاں  بی جے پی حکومت والی دوسری ریاستوں میں بھی کی جا رہی ہے،  بھلے ہی ناقدین اس طرح کی کاروائیوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھارہے ہیں۔

بتاتے چلیں کہ  21 جنوری اور 22 جنوری کو میرا روڈ پر تشدد کی وارداتیں پیش آئی تھیں جس میں دو گروپ ایک دوسرے پر پتھراو کرنے کی وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ 22 جنوری کی رات تک پولس نے اس سلسلے میں 13 لوگوں کو گرفتار کیا  تھا۔ یہ تشدد اس وقت ہوا جب ایودھیا میں بابری مسجد والی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کےبعد اُس کی افتتاحی تقریب کے سلسلے میں  میرا روڈ پربھی  جلوس نکالا جا رہا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ مُبینہ طور پر  میرا روڈ کے لوگوں نے   جلوس پر پتھراؤ کیا جس میں بھگوا جھنڈوں والی کاریں اور بائک بھی شامل تھے۔ اس واقعے میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات کی گئی۔

مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے 22 جنوری کی رات کو ہی  ٹویٹر پر لکھا کہ "جو بھی ریاست میں امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا" اسے سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، "میرا ۔بھینڈر کے نیا نگر علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں مکمل معلومات کل رات ہی لی گئی تھیں۔ میں پیر کی صبح 3.30 بجے تک میرا-بھینڈ ر پولیس کمشنر سے مسلسل رابطے میں تھا۔"

فڈنویس نے مزید کہا، "پولیس کو ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس معاملے میں اب تک 13 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرکے دیگر ملزمان کی شناخت کی کارروائی جاری ہے۔"  اس کے ایک دن بعد بلڈوزروں نے ایم ایم آر مضافاتی علاقے میں مُبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کردیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں  کی کافی بڑی تعداد موقع پر دیکھی گئی ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ   میرا بھائینڈر میونسپل کارپوریشن  کی طرف سے  فٹ پاتھ پر قائم عارضی دکانوں اور  مُبینہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ  پنویل کے کچھی محلہ علاقے میں بھی معمولی تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی تھی، جب موٹر سائیکل ریلی نکالنے والے کچھ نوجوانوں نے مقامی مسجد کے باہر نعرے بازی کی، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ اس تصادم میں تین افراد زخمی ہوئے  تھے جنہیں علاج کے لیے مقامی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔


Share: